Call: +92 309 0560000
spot_img
Homeجڑی بوٹیاں اور ان کے خواصمورنگا کے بیجوں کے فوائد، ممکنہ نقصانات، اور استعمال

مورنگا کے بیجوں کے فوائد، ممکنہ نقصانات، اور استعمال

تعارف

مورنگا کے بیج Moringa oleifera درخت کے پھلوں سے حاصل ہوتے ہیں، جو کہ “ڈرم اسٹک ٹری” یا “معجزاتی درخت” کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ درخت جنوبی ایشیا میں عام تھا اور اب دنیا بھر میں گرم علاقوں میں اگتا ہے۔

انگریزی (English): Moringa seeds, Drumstick seeds

ہندی (Hindi): सहजन के बीज (Sahjan ke beej)

سنسکرت (Sanskrit): शिग्रु बीज (Shigru Bija)

تمل (Tamil): முருங்கை விதை (Murungai vithai)

تلگو (Telugu): మునగ గింజలు (Munaga ginjalu)

کنڑ (Kannada): ನುಗ್ಗೆ ಬೀಜ (Nugge beeja)

مالیالم (Malayalam): മുരിങ്ങ വിത്ത് (Muringa vithu)

ماراٹھی (Marathi): शेवग्याचे बी (Shevagyache bee)

گجراتی (Gujarati): સરગવાના બીજ (Saragvana beej)

بنگالی (Bengali): সজনে বীজ (Sojne beej)

پنجابی (Punjabi): ਸਹਿਜਣੇ ਦੇ ਬੀਜ (Sahijne de beej)

اردو (Urdu): سہانجنا کے بیج (Sohanjna ke beej)

صحت کے فوائد

اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور

مورنگا کے بیج میں فلیونوائڈز (جیسے کہ quercetin اور myricetin) اور پولیفینولز پائے جاتے ہیں جو خلیات کے نقصان اور آکسڈیٹیو اسٹریس سے لڑتے ہیں اور ممکنہ طور پر بوڑھاپے کے اثرات کو سست کرتے ہیں۔

وٹامنز اور معدنیات

یہ بیج وٹامن A، E، کیلشیم، زنک، آئرن اور پروٹین کا اچھا ذریعہ ہیں، جو مدافعتی نظام اور ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

سوزش کم کرنے والے

مورنگا کے بیج میں موجود مرکبات جیسے گلوکو مورنگن (glucomoringin) اور بیٹا-سائٹو سٹیرول (beta-sitosterol) سوزش اور درد کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔

بلڈ شوگر اور دل کی صحت

بیج کے استعمال سے خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو ذیابیطس اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

مدافعت بڑھانا

مورنگا بیج میں موجود غذائی اجزاء اور فائٹوکیمیکلز جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

ہاضمہ بہتر بنانا

بیج میں موجود فائبر ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، قبض کو کم کرتا ہے اور باقاعدہ قبض و پیٹ کی صحت میں مددگار ہوتا ہے۔

جلد اور بال

بیج سے نکالا گیا مورنگا آئل جلد کو نم اور جوان رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ بیج خود بھی جلد اور بالوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مفید ہیں۔

جراثیم کش

مورنگا بیج میں موجود pterygospermin نامی جزو میں اینٹی بایوٹک خصوصیات ہیں، جو بیکٹیریا اور فنگس سے لڑنے میں مددگار ہیں۔

ممکنہ نقصانات

اگرچہ مورنگا کے بیج عام طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں، زیادہ مقدار یا غلط استعمال کے کچھ نقصان بھی ہو سکتے ہیں:

1. ہاضمے کی پریشانیاں

زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے اپھارہ، گیس، قبض یا اسہال ہو سکتا ہے۔

2. خون کا دباؤ اور شکر

مورنگا کے بیج خون کی شکر اور بلڈ پریشر کم کر سکتے ہیں، اس لیے اگر آپ پہلے ہی ان دواؤں پر ہیں تو احتیاط ضروری ہے۔

3. الرجی یا حساسیت

کچھ لوگوں میں الرجی یا حساس ردِ عمل بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر بہت زیادہ مقدار لی جائے۔

4. حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے انتباہ

حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کے لیے استعمال سے پہلے طبی مشورہ بہت ضروری ہے کیونکہ تحقیق مکمل طور پر محفوظ ثابت نہیں ہو پائی ہے۔

استعمال کے طریقے

1. مورنگا سیڈ آئل (جلد اور بال)

  • بیجوں سے نکالا ہوا تیل جلد اور بالوں کے لیے بہترین ہے۔
  • جلد پر چند قطرے ملالیں — نمی، جوانی اور چمک بڑھاتا ہے۔
  • بالوں کے لئے سر پر ہلکا مساج کریں — خشکی اور جڑوں کو مضبوط کرتا ہے۔

2. بیج کا پاؤڈر (حد میں)

  • بیج بھون کر پیس کر چائے یا شیک میں بہت محدود مقدار (مثلاً 1‑2 بیج) شامل کیا جا سکتا ہے — لیکن صرف ماہر کی نگرانی میں۔
  • خام بیج نہ کھائیں، کیونکہ یہ ہاضمے میں پریشانی یا دیگر مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

3. صحت کے لیے محفوظ متبادل

  • اگر مقصود صحت میں بہتری ہے، تو مورنگا کی پتیوں یا پاؤڈر (لیوز) کا استعمال عموماً داخلی طور پر زیادہ محفوظ اور مفید سمجھا جاتا ہے۔

احتیاطی تجاویز

ہمیشہ تجربہ کار/طبی مشورے کے ساتھ شروع کریں۔
خوراک کم مقدار سے شروع کریں۔
مخصوص دواؤں کے ساتھ طبی مشورہ ضروری ہے۔

یہ ارٹیکل عام معلومات کے لیے ہے کسی بھی جڑی بوٹی کو استعمال کرنے سے پہلے آپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
حکیم کرامت اللہ

00923090560000

مقالات ذات صلة

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

الأكثر شهرة

spot_img

احدث التعليقات